تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:82
﴿٨٢﴾
آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:83
﴿٨٣﴾
باپ نے یہ داستان سن کر کہا "دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا اچھا اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملا ئے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:84
﴿٨٤﴾
پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:85
﴿٨٥﴾
بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:86
﴿٨٦﴾
اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:87
﴿٨٧﴾
میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:88
﴿٨٨﴾
جب یہ لوگ مصر جا کر یوسفؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ "اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھر پور غلہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:89
﴿٨٩﴾
(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:90
﴿٩٠﴾
وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:91
﴿٩١﴾
انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:92
﴿٩٢﴾
اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:93
﴿٩٣﴾
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:94
﴿٩٤﴾
جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا "میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:95
﴿٩٥﴾
گھر کے لوگ بولے "خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:96
﴿٩٦﴾
پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:97
﴿٩٧﴾
سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:98
﴿٩٨﴾
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:99
﴿٩٩﴾
پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (اپنے سب کنبے والوں سے) کہا "چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے
اس آیت کی تلاوت کی مشق کریں
مائیکروفون پر ٹیپ کریں اور پڑھیں۔
12:100
﴿١٠٠﴾
(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے یوسفؑ نے کہا "ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے